نئی دہلی،2؍اکتوبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) بھارتی کسان یونین (بی کے یو) کی قیادت میں دہلی میں گھسنے کی کوشش کر رہے کسانوں کو منگل کو غازی پور بارڈر پر ہی پولیس نے روک دیا ۔اس دوران ان پر لاٹھی چارج کی گئی۔اس معاملے پر کانگریس صدر راہل گاندھی سمیت دیگر پارٹیوں نے مودی حکومت پرنشانہ لگاتے ہوئے کسانوں کی حمایت میں آ گئی ہیں۔
کانگریس صدر نے منگل کو ٹویٹ کرکے لکھاہے کہ عالمی عدم تشدد کے دن پر بی جے پی کا دو سالہ گاندھی جینتی تقریب پرامن طریقے سے دہلی آ رہے کسانوں کی وحشیانہ طریقے سے پٹائی سے شروع ہوا۔اب کسان ملک کے دارالحکومت آکر اپنا درد بھی نہیں سنا سکتے۔کانگریس صدر کے علاوہ قومی لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر چودھری اجیت سنگھ غازی پور بارڈر پر جائیں گے۔پارٹی نے اپنے تمام کارکنوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ بھی وہاں پر پہنچیں۔بتا دیں کہ منگل کو بھارتی کسان یونین کی قیادت والا مارچ غازی آباد پہنچا اور یہاں پر پولیس سے جھڑپ ہوئی۔یوپی ۔ دہلی بارڈر پر پولیس نے یہاں پر بیرکیڈنگ کر دی تھی، جہاں کسان اور پولیس کے درمیان شدید بحث ہو گئی۔اس دوران پولیس نے انہیں روکنے کے لئے پانی کی بوچھاریں اور آنسو گیس کے گولے چھوڑے۔ حالانکہ لاٹھی چارج جھڑپ کے بعد حکومت کی جانب سے کسانوں کو منانے کی کوششیں کی گئیں۔اس جدوجہد کے بعد کسانوں کے نمائندوں نے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کی۔اس دوران وزیر زراعت گجیندر سنگھ شیخاوت بھی موجود رہے۔ملاقات کے بعد وزیر نے بیان دیا کہ زیادہ تر مطالبات پر اتفاق رائے ہوگیاہے، کسانوں کو اس بات کی معلومات دی جا رہی ہے۔کسان رہنماؤں سے بات چیت کے دوران ہی راج ناتھ سنگھ نے بھاکیوسربراہ نریش ٹکیت سے فون پر بھی بات کی۔معاملے پر جے ڈی یو لیڈر کے سی تیاگی نے کہا کہ یہ آزادی کے بعد کسانوں پر سب سے واقعہ ہے۔کسان تحریک کے پہلے ہی دن حکومت کو کسانوں سے بات کرنی چاہیے تھی۔ہماری این ڈی اے کے خیر خواہ کے ناطے مشورہ ہے کہ کسانوں کے تمام مطالبات کو مان لیا جانا چاہئے۔